استادِ محترم جناب ماسٹر شاہد صاحب کی ریٹائرمنٹ پر پروقار و یادگار محفل

AZAMGARH News:
زندگی کے کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ دلوں میں نقش ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک خوبصورت اور باوقار موقع اس وقت دیکھنے کو ملا جب استادِ محترم جناب ماسٹر شاہد صاحب کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک شاندار اور یادگار محفل کا انعقاد کیا گیا۔
یہ پروقار تقریب ان کے چار مخلص دوستوں—حاجی اخلاق احمد صاحب، جناب محمد طالب صاحب، جناب فیضان احمد صاحب اور جناب سہراوب احمد صاحب—کی جانب سے منعقد کی گئی۔ محفل کا انعقاد محلہ شیخ حرم، ایس پی اے کمپلیکس میں ہوا، جو اپنی خوبصورت باغبانی اور گلوں کی سجاوٹ کے لیے مشہور ہے۔ اس خوبصورت ماحول نے محفل کی رونق کو مزید بڑھا دیا۔
تقریب میں معزز مہمانوں اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نظامت اور ابتدائی کلمات احمد ریحان فلاحی صاحب نے پیش کیا اسکے بعد مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جناب ماسٹر عارف صاحب نے اپنے خطاب میں ماسٹر شاہد صاحب کی علمی خدمات کو سراہا، اور مولانا آصف صاحب نے بھی نہایت خوبصورت انداز میں ان کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالی۔
محفل کے اختتام پر حضرت مفتی شاہد مسعود القاسمی صاحب نے خصوصی دعا فرمائی، جس میں ماسٹر شاہد صاحب کی صحت، لمبی عمر اور نیک زندگی کے لیے دعا کی گئی۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب محمد راشد صاحب اور جناب شعیب صاحب سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی، جس سے محفل کی شان میں مزید اضافہ ہوا۔
استادِ محترم کی تدریسی خدمات کا خلاصہ: ماسٹر شاہد صاحب نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز 9 دسمبر 1994 کو بطور اسسٹنٹ ٹیچر کیا۔ ابتدائی تقرری ضلع اعظم گڑھ کے ایک پرائمری اسکول (گورا) میں ہوئی۔
بعد ازاں 5 جولائی 1997 کو ان کا تبادلہ پرائمری اسکول تھنولی (ضلع اعظم گڑھ) میں ہوا، جہاں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں۔
پھر 29 دسمبر 2014 کو انہیں ترقی/منتقلی کے ساتھ پرائمری اسکول سیمرول، ضلع جہانا گنج (اعظم گڑھ) میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔
آخر میں 30 جولائی 2016 کو ان کا تبادلہ پرائمری اسکول چھاؤں، ضلع اعظم گڑھ میں ہوا، جہاں سے انہوں نے اپنی طویل تدریسی خدمات مکمل کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ حاصل کی۔
تقریب کا ایک خاص اور دل کو خوش کر دینے والا پہلو یہ بھی تھا کہ ایک ہونہار بچے محمد صائم، جو ایس پی اے فیملی کا حصہ ہیں اور اپنے اسکول میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے ٹاپر رہے، کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ انہیں انعام کے طور پر ایک سائیکل پیش کی گئی۔ اس موقع پر موجود مہمانوں نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس بچے کی خوب حوصلہ افزائی کی اور اسے نقد انعامات سے نوازا، جس سے اس کی خوشی دوبالا ہو گئی۔
تقریب کے اختتام پر تمام مہمانوں کے لیے نہایت لذیذ اور پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا گیا، جسے سب نے بے حد پسند کیا۔ اس پرخلوص دعوت پر سب نے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا اور خوشی و مسرت کے ساتھ اپنے گھروں کو رخصت ہوئے۔
بلاشبہ یہ محفل نہ صرف ایک عظیم استاد کی خدمات کا اعتراف تھی بلکہ دوستی، محبت، خلوص اور تعلیم کی قدر کو اجاگر کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی بنی، جو



