یونانی میڈیکل کالج، پریاگ راج میں یوم یونانی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا

Reporter roshan lal

پریاگ راج: اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج و اسپتال پریاگراج میں نیشنل کمیشن فار انڈین سسٹم آف میڈیسن، وزارت آیوش، حکومتِ ہند اور حکومتِ اتر پردیش کی ہدایات کے تحت یونانی ڈے 2025 کی تقریب 15 فروری بروز سنیچر کالج کے حکیم احمد حسین آڈیٹوریم میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ تقریب کا عنوان تھا “یونانی طب میں جدت اور صحت کے مربوط حل کی جانب ایک قدم”۔
اس تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر جی ایس تومر صاحب تھے، جبکہ جناب یثمانیل عثمانی،صاحب نے بطورِ مہمانِ اعزازی اور ڈاکٹر منوج کمار سنگھ، ڈی او آیوروید و یونانی، پریاگ راج اور جناب شمس الضحی نے اسپیشل گیسٹ کے طور پر رونق بخشی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے ہونے کے بعد پروفیسرنجیب حنظلہ عمار نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام مہمانان کا خیر مقدم کیا اور بتایا کہ حکیم اجمل خان صاحب کا اس ادارہ و خاندان عثمانی سے دیرینہ تعلق رہا ہے۔ حکیم صاحب نے اپنی دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے یونانی و آیورویدک سے منسلک افراد کو یکجا کر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں نئے اداروں کے قیام کا سلسلہ جاری کر کے دیسی طب کو زندہ کیا۔ آپ کی طبی خدمات کو سراہتے ہوئے منسٹری آف آیوش نئی دہلی کے مطابق ہر سال آپ کی یوم پیدائش 11 فروری کو”یوم یونانی”کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔
اس پروگرام میں حکیم اجمل خان (1868-1927) کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جن کی خدمات کو یونانی طب کا سنگِ بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ حکیم اجمل خان کی حیات وخدمات پر ہمہ جہت روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر کفیل احمد نے بتایا کہ آپ ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے ہیں جس سے ہمیں نہ صرف طبی بلکہ دیگر اہم شعبہ حیات میں رہنمائی ملتی ہے۔
مہمان اعزازی جناب یثمانیل عثمانی صاحب نے بتایا کہ جب اس ادارہ کی 1904 میں سنگ بنیاد رکھی گئی اسی سال حکیم اجمل خان ادارہ میں بنفس نفیس تشریف لائے اور اپنے تجربات و تجویزات کے ساتھ بانی ادارہ کو سراہا اور مبارکباد دی-آپ نے طلباء کو باور کرایا کہ طب یونانی کے سلسلے میں خود اعتمادی پیدا کریں۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر جی ایس تومر صاحب سابق پرنسپل گورنمنٹ آیورویدک کالج ہنڈیا پریاگ راج نے بتایا کہ طب یونانی دیگر طریقہائے طب سے یکسر مختلف نہیں ہے بلکہ یکساں مقام رکھتی ہے۔ نیز یونانی طریقہ علاج صدیوں کا آزمودہ سرمایہ ہے، اسے عوام تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ روایت اور تحقیق کا حسین امتزاج ہے، جس میں قدرتی علاج کے اصول کارفرما ہیں۔
صدارتی کلمات میں پرنسپل ڈاکٹر وسیم احمد نے سبھی کا شکریہ اداکرنے کے ساتھ مقابلہ میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو سراہا اور کامیاب طلباء کو مبارکباد پیش کی ۔ آپ نے کہا یونانی طب کا ماضی نہایت تابناک ہے، اور اس کا مستقبل ہماری کوششوں اور تحقیق سے مزید روشن ہوگا۔ ہمارا مقصد طلبہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے طب یونانی کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ ہم سب کا خواب ہے کہ اس ادارے کو یونانی علوم و فنون کا مرکزِ عظیم بنائیں، جہاں علم، تحقیق اور خدمت کا چراغ ہمیشہ فروزاں رہے۔ آپ نے اخیر میں یوم یونانی کی دوبارہ مبارکباد پیش کرتے ہوئے تمام لوگوں کا شکریہ اداکیا۔
یونانی ڈے کے موقع پر کئی علمی، تخلیقی اور کھیل کود جیسی سرگرمیوں کا انعقاد ہوا، جن میں اردو ڈکٹیٹیشن مقابلہ، تقریری مقابلہ، مباحثہ، کوئز، پوسٹر سازی، والی بال، رسہ کشی ، لیگڈ ریس، ٹیبل ٹینس، کیرم، بیڈمنٹن، کھو کھو، بلز آئی ڈارٹ گیم اور میوزیکل چیئر شامل تھے۔ ان سرگرمیوں میں طلبہ و طالبات نے نہایت جوش و خروش سے حصہ لیا۔ کامیاب طلبہ کو اول، دوم اور سوم پوزیشن کے تحت اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔
مزید برآں، عوام الناس میں یونانی علاج کے فوائد عام کرنے کی غرض سے ایک طبی کیمپ بھی منعقد کیا گیا، جہاں ماہر معالجین نے مریضوں کا معائنہ کیا اور مفت مشورے دیے۔
تمام سرگرمیوں اور انتظامات کی نگرانی کے فرائض ایک سہ رکنی کمیٹی نے انجام دیے، جس میں پروفیسر نجیب حنظلہ عمار(چئرمین)، ڈاکٹر قمرالحسن لاری اور ڈاکٹر فردوس انیس انیس شامل تھے۔
ڈاکٹر قمر الحسن لاری نے کلمات تشکر پیش کئے ۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر فردوس انیس نے کی۔ اس کالج کے تمام تدریسی و غیر تدریسی عملہ، ہاسپٹل اسٹاف اور طلباء و طالبات نے اس پروگرام کومل کر کامیاب بنایا۔ اس پروگرام کا اختتام کالج ترانہ اور قومی گیت سے ہوا۔

Related Articles

Back to top button