عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی پہل، مخدوم پور میں اقراء کلینک سے دیہی عوام کو طبی سہولت
گاؤں میں ہی علاج کی سہولت، اقراء پبلک کلینک مخدوم پور کے عوام کے لیے بڑی سہولت

ڈاکٹر محمد وسیم
محمد پور کے مخدوم پور گاؤں میں ضرورت مند افراد کو بہتر طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم اقراء پبلک کلینک مقامی لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت بن کر سامنے آیا ہے۔ نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی پہل پر شروع کیے گئے اس کلینک میں گاؤں اور آس پاس کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کو علاج اور ادویات کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
آجَم گڑھ/محمد پور۔ محمد پور کے مخدوم پور گاؤں میں ضرورت مند خاندانوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کی ایک قابلِ ذکر کوشش سامنے آئی ہے۔ نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی پہل پر قائم اقراء کلینک گزشتہ کچھ عرصے سے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کے لیے صحت کی سہولت کا اہم مرکز بن کر سامنے آیا ہے۔ اس کلینک کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عام بیماریوں اور بنیادی طبی ضرورتوں کے لیے دیہی باشندوں کو دور دراز علاقوں کا رخ نہ کرنا پڑے اور انہیں اپنے ہی علاقے میں مناسب علاج اور ادویات کی سہولت میسر آسکے۔مخدوم پور جیسے دیہی علاقے میں صحت کی بنیادی سہولت کا دستیاب ہونا مقامی لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ عام طور پر دیہات میں معمولی بیماری، بخار، نزلہ، کھانسی، جسم میں درد، موسمی بیماریوں یا دیگر ابتدائی طبی مسائل کے علاج کے لیے لوگوں کو قریبی قصبوں یا شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس سفر میں نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ آنے جانے کا کرایہ اور علاج کے دیگر اخراجات بھی ضرورت مند خاندانوں پر اضافی بوجھ بن جاتے ہیں۔ اقراء پبلک کلینک نے اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مقامی سطح پر علاج کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔کلینک علاقے کے معروف ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں منظم انداز میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد وسیم کے مطابق کلینک کا مقصد صرف علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ ضرورت مند افراد تک بنیادی طبی سہولت کو آسان اور کم خرچ انداز میں پہنچانا بھی ہے۔ ان کے مطابق گاؤں کہ لوگوں کو مفت علاج اور آس پاس کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کی طبی ضرورت کے مطابق انہیں علاج اور ادویات کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث کوئی شخص بنیادی علاج سے محروم نہ رہے۔ڈاکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت سے متعلق آگاہی اور بروقت علاج کی بہت اہمیت ہے۔ معمولی بیماری اگر بروقت قابو میں نہ آئے تو بعض اوقات وہ سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ایسے میں گاؤں کی سطح پر طبی مرکز موجود ہونے سے لوگوں کو ابتدائی مرحلے میں ہی طبی مشورہ اور علاج حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اقراء پبلک کلینک اسی ضرورت کو پورا کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔کلینک کی ایک اہم خصوصیت ضرورت مند مریضوں کے لیے ادویات کے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش بھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایسے افراد جو مالی مشکلات کی وجہ سے دوا خریدنے میں ہچکچاتے ہیں انہیں فری دوا دی جاتی ہے، اور کچھ لوگ پیسہ دینا چاہتے ہیں انہیں تقریباً 50 سے 60 فیصد تک خصوصی رعایت فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس رعایتی سہولت کا مقصد یہ ہے کہ معاشی کمزوری کسی مریض کے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ خاص طور گاؤں والوں اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے دوا کے اخراجات میں کمی ایک بڑی مدد ثابت ہو سکتی ہے۔مقامی دیہاتی بھی اقراء کلینک کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے عام بیماری کے علاج اور دوا کے لیے انہیں گاؤں سے باہر جانا پڑتا تھا۔ اس کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ سفر کا خرچ بھی برداشت کرنا پڑتا تھا۔ اب گاؤں میں ہی کلینک کی سہولت دستیاب ہونے سے انہیں علاج کے لیے دور جانے کی ضرورت نسبتاً کم ہوگئی ہے۔ اس سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ دونوں کو سہولت حاصل ہوئی ہے۔دیہی باشندوں کے مطابق اس طرح کی سہولت خاص طور پر بزرگوں، خواتین، بچوں اور ان خاندانوں کے لیے فائدہ مند ہے جن کے پاس علاج کے لیے اضافی وسائل محدود ہیں۔ اگر مریض کو ابتدائی طبی مشورہ اپنے ہی گاؤں میں مل جائے تو نہ صرف سفر کا خرچ بچتا ہے بلکہ بیماری کی تشخیص اور علاج بھی بروقت شروع کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں میں کلینک کے حوالے سے مثبت تاثر پیدا ہوا ہے۔مخدوم پور میں اقراء پبلک کلینک کا قیام صرف ایک طبی مرکز کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ اسے سماجی خدمت کی ایک ایسی کوشش کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے جس کا مقصد معاشرے کے ضرورت مند طبقے تک بنیادی سہولت پہنچانا ہے۔ عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی اس پہل کو مقامی سطح پر اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔ ایسے میں کسی نجی یا سماجی کوشش کے ذریعے مقامی لوگوں کے لیے علاج کی سہولت پیدا ہونا قابلِ توجہ قدم ہے۔عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی سماجی سوچ صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں بتائی جاتی۔ علاقے میں تعلیم کے میدان میں بھی بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوششوں کی بات سامنے آ رہی ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ دیہی علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہوں اور انہیں بنیادی تعلیمی سہولتوں کے لیے دوسرے علاقوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔مقامی سطح پر معیاری تعلیم کی فراہمی بھی کسی بھی گاؤں کی مجموعی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ اگر بچوں کو مناسب اساتذہ، بہتر تعلیمی ماحول اور ضروری رہنمائی حاصل ہو تو ان کے مستقبل کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت گاؤں کے بچوں کی تعلیمی سطح بہتر بنانے اور انہیں اچھا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی سمت میں کام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صحت اور تعلیم دونوں ایسے شعبے ہیں جن کا براہِ راست تعلق معاشرے کے مستقبل سے ہے۔ ایک صحت مند بچہ ہی بہتر انداز میں تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہی اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم دونوں شعبوں پر توجہ دی جائے تو مجموعی سماجی ترقی کی رفتار بھی تیز ہوسکتی ہے۔
اقراء پبلک کلینک کی خدمات کے حوالے سے ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ طبی مرکز میں آنے والے مریضوں کو ان کی ضروریات کے مطابق علاج اور دوا فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ڈاکٹر کی موجودگی سے مریضوں کو طبی مشورہ لینے میں سہولت ملتی ہے اور انہیں معمولی بیماریوں کے لیے غیر ضروری طور پر دور کے مراکز کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔دیہی علاقوں میں طبی سہولت کی کامیابی صرف عمارت یا کلینک قائم کرنے سے نہیں بلکہ مسلسل اور ذمہ دارانہ خدمات سے جڑی ہوتی ہے۔ مقامی لوگوں کی ضرورت کے مطابق علاج، ادویات کی دستیابی، مریضوں کے ساتھ مناسب رویہ اور مالی طور پر کمزور ضرورت مندوں افراد کی مدد ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی طبی مرکز کو عوام کے قریب بناتے ہیں۔
مخدوم پور میں اقراء پبلک کلینک کی خدمت، عادل خان اور ناصر خان قابلِ تعریف،محمد پور۔ مخدوم پور گاؤں میں ضرورت مند افراد کو بہتر طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم اقراء پبلک کلینک مقامی لوگوں کے لیے ایک اہم سہارا بن کر سامنے آیا ہے۔ کلینک کی خدمات میں عادل خان اور ناصر خان کا تعاون بھی قابلِ تعریف ہے، جو عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کے بہن کے بیٹے ہیں اور مسلسل خدمت کے جذبے کے ساتھ کلینک میں اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں
اقراء پبلک کلینک کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے مقامی ضرورتوں کے مطابق خدمت کا مرکز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔علاقے کے کسانوں اور دیگر دیہی باشندوں کا ماننا ہے کہ اگر معاشرے کے صاحبِ حیثیت اور صاحبِ فکر افراد اسی طرح ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئیں تو گاؤں کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور سرکاری اداروں کی اپنی ذمہ داریاں ہیں، تاہم سماج کے ذمہ دار افراد کی مثبت شراکت بھی ترقی کے عمل کو مضبوط بنا سکتی ہے۔مخدوم پور میں اقراء کلینک اسی اجتماعی سوچ کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اگر مقامی سطح پر صحت کی بنیادی سہولت مسلسل دستیاب رہے اور ضرورت مند خاندانوں کو علاج و ادویات میں مناسب تعاون ملتا رہے تو اس کے دور رس مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی مسلسل توجہ دی جائے تو آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سماجی خدمت کا اصل مقصد وہی ہے جس سے عام انسان کی زندگی آسان ہو۔ اگر کسی ضرورت مند مریض کو علاج کے لیے دور نہ जाना پڑے، اگر اسے دوا مناسب قیمت پر مل جائے، اگر کسی بچے کو بہتر تعلیم کا موقع حاصل ہو اور اگر کسی خاندان کو مشکل وقت میں تعاون مل جائے تو یہ سب معاشرے کی حقیقی خدمت کے دائرے میں آتا ہے۔عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی جانب سے صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں کی جانے والی کوششوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اقراء پبلک کلینک نے مخدوم پور میں صحت کی سہولت کی ضرورت کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ تعلیمی میدان میں بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی سوچ بھی مقامی سطح پر ایک مثبت پیغام دے رہی ہے۔ماہرین کا عمومی طور پر بھی ماننا ہے کہ دیہی ترقی صرف سڑک، بجلی اور دیگر بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ صحت، تعلیم اور سماجی بہبود بھی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ جب کسی گاؤں میں علاج کی سہولت، تعلیم کے بہتر مواقع اور ضرورت مندوں کے لیے تعاون کا ماحول پیدا ہوتا ہے تو وہاں لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔مخدوم پور کے باشندوں کی امید ہے کہ اقراء پبلک کلینک مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھے گا اور مزید ضرورت مند خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایسے منصوبوں کو مقامی تعاون، شفاف انتظام اور مسلسل خدمت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے تو یہ دوسرے دیہات کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال بن سکتے ہیں۔آخرکار، مخدوم پور میں اقراء پبلک کلینک ایک ایسی مثبت کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے دیہی علاقے میں بنیادی صحت کی سہولت کو لوگوں کے قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ عبداللہ شیخ اور عبدالرحمن شیخ کی پہل، ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی اور عبداللہ شیخ عبدالرحمن شیخ کی نگرانی چلنے والی یہ کوشش اس بات کی مثال پیش کرتی ہے کہ سماجی ذمہ داری کے جذبے سے صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں چھوٹی مگر مؤثر تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اگر معاشرے کے اہل اور صاحبِ استطاعت افراد ضرورت مندوں اور گاؤں کے لوگوں کے لیے فکر مند اسی جذبے کے ساتھ آگے آتے رہیں تو صحت، تعلیم اور مجموعی سماجی ترقی کے میدان میں دیہی علاقوں کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ مخدوم پور میں اقراء پبلک کلینک اسی مثبت سوچ اور عوامی خدمت کی ایک قابلِ ذکر مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
ایڈیٹر افتاب عالم



