اعظم گڑھ کے فرزند شاہ عالم گڈو جمالی نے ایوان میں کسانوں اور عوام کے حقوق کی بھرپور وکالت کی
قانون ساز کونسل میں اعظم گڑھ کی گونج، ایم ایل سی شاہ عالم گڈو جمالی نے عوامی مسائل بھرپور انداز میں اٹھائے
لکھنؤ/اعظم گڑھ، 4 اگست:اتر پردیش قانون ساز کونسل کے مانسون اجلاس میں اعظم گڑھ سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) شاہ عالم عرف گڈو جمالی نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ عوامی نمائندے کا اصل فرض صرف ایوان میں موجود رہنا نہیں بلکہ اپنے علاقے کے مسائل کو پوری قوت اور دلائل کے ساتھ حکومت کے سامنے رکھنا ہے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے اعظم گڑھ کے کسانوں، مزدوروں، خواتین، نوجوانوں، بے روزگار طبقے اور دیہی عوام کے بنیادی مسائل کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا، جس پر ایوان کی توجہ بھی مرکوز ہوئی اور متعلقہ وزراء نے کئی معاملات میں کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔اعظم گڑھ کے عوام کا کہنا ہے کہ شاہ عالم (گڈو جمالی) نہ صرف ایک سیاسی رہنما ہیں بلکہ اپنے علاقے کے حقیقی فرزند ہیں، جو ہر طبقے کی آواز کو حکومت تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قانون ساز کونسل میں کی گئی تقاریر اور عوامی مسائل پر مؤقف کو ضلع بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
کسانوں کے حق میں مضبوط آواز
مانسون اجلاس کے دوران 3 اور 4 اگست کو شاہ عالم (گڈو جمالی) نے سب سے پہلے سگدی اور گوپال پور اسمبلی حلقوں کے دیواڑہ علاقے کے گنا کاشت کرنے والے کسانوں کے مسائل کو ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی کہ جن کسانوں کی گنے کی فصل ابھی پوری طرح تیار بھی نہیں ہوئی تھی، ان کی فصل کا قبل از وقت سروے کر کے انہیں تیسری کیٹیگری میں شامل کر دیا گیا، جس سے ہزاروں کسانوں کو معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر سروے وقت سے پہلے کیا جائے گا تو فصل کی اصل پیداوار کا اندازہ ممکن نہیں ہوگا، جس کا براہ راست اثر کسانوں کی آمدنی پر پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گنے کی فصل مکمل تیار ہونے کے بعد دوبارہ شفاف اور غیر جانبدار سروے کرایا جائے تاکہ ہر کسان کو اس کی محنت کا پورا حق مل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ کسان سال بھر محنت کرتا ہے، قرض لیتا ہے، کھاد، بیج اور آبپاشی پر بھاری اخراجات برداشت کرتا ہے، اس لیے سروے میں معمولی سی بے ضابطگی بھی اس کے لیے بڑے مالی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جانی چاہیے۔
سٹیاؤں شوگر مل کی بے ضابطگیوں پر حکومت کو گھیر لیا
شاہ عالم (گڈو جمالی) نے اعظم گڑھ کی سٹیاؤں شوگر مل میں جاری بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی پوری شدت کے ساتھ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ گنے کے کاشتکاروں کو بروقت پرمٹ جاری نہیں کیے جاتے، جس کے باعث انہیں کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران کسان لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، ان کا وقت ضائع ہوتا ہے اور انہیں ذہنی و مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض مقامات پر درمیانی افراد (دلال) اس پورے نظام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کسانوں کا استحصال ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شوگر ملوں کے پورے نظام کو مکمل طور پر شفاف، ڈیجیٹل اور کسان دوست بنایا جائے تاکہ ہر کسان کو بغیر کسی سفارش اور رشوت کے بروقت پرمٹ اور دیگر سہولیات میسر آسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسان ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ناانصافی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
بندرا بازار–خلیس پور لهبریا لنک روڈ کی خستہ حالی کا مسئلہ
قانون ساز کونسل میں شاہ عالم نے تحصیل مہ نگر کے بندرا بازار–خلیس پور لہبریہ لنک روڈ کی بدحالی کا مسئلہ بھی زور و شور سے اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے مگہی کے قریب تقریباً 300 میٹر لمبی بجری والی سڑک پانی بھر جانے کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی خستہ حالی کے باعث روزانہ ہزاروں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ اسکول جانے والے بچے، خواتین، حاملہ خواتین، بزرگ افراد، مریض اور دیہات کے عام لوگ اس راستے سے گزرنے پر مجبور ہیں، مگر خراب سڑک کی وجہ سے ان کی زندگی خطرے میں رہتی ہے۔شاہ عالم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سڑک کی فوری تعمیر نو کی جائے اور اسے جدید معیار کے مطابق مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام کو محفوظ آمدورفت کی سہولت حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سڑکیں کسی بھی علاقے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہیں اور ان کی بدحالی پورے علاقے کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔
رول 110 کے تحت ایک اور اہم سڑک کا معاملہ اٹھانے کا اعلان
ایم ایل سی شاہ عالم (گڈو جمالی) نے ایوان کو آگاہ کیا کہ وہ رول 110 کے تحت اعظم گڑھ ضلع کی ایک اور انتہائی اہم سڑک کی تعمیر نو کا معاملہ بھی قانون ساز کونسل میں اٹھائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً چھ کلو میٹر لمبی یہ سڑک جیان پور مین روڈ کو متعدد دیہات سے جوڑتی ہے۔ یہ سڑک کوٹوا، بروا، دھورہا، کھتر پور، پکوا انار اور چنہاوا موڑ کے شنکر جی مندر سے گزرتی ہے، مگر اس وقت اس کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑک جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گہرے گڑھے موجود ہیں اور معمولی بارش کے بعد بھی آمدورفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز حادثات پیش آتے ہیں، جن میں عام شہری زخمی ہوتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اہم شاہراہ کی جلد از جلد تعمیر کرائی جائے تاکہ ہزاروں شہریوں کو روزانہ پیش آنے والی مشکلات سے نجات مل سکے۔
نالوں کی تعمیر کا بھی مطالبہ
شاہ عالم نے صرف سڑکوں کی تعمیر ہی نہیں بلکہ نکاسی آب کے ناقص نظام کی طرف بھی حکومت کی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی باشندوں نے متعدد مرتبہ متعلقہ محکموں کے افسران کو درخواستیں دی ہیں کہ سڑکوں کے ساتھ مناسب نالوں کی تعمیر بھی کی جائے تاکہ بارش کا پانی جمع نہ ہو، مگر افسوس کہ اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جب تک نکاسی آب کا مناسب انتظام نہیں ہوگا، نئی تعمیر ہونے والی سڑکیں بھی زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکیں گی۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ رول 110 کے تحت ایوان میں بیان دے کر عوام کو یقین دلایا جائے کہ سڑکوں اور نالوں کی تعمیر کا کام جلد شروع ہوگا۔
عوامی مفاد کو اولین ترجیح
قانون ساز کونسل میں خطاب کرتے ہوئے شاہ عالم (گڈو جمالی) نے واضح کیا کہ ان کی سیاست کسی خاص ذات، مذہب یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ وہ اعظم گڑھ کے ہر شہری کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چاہے کسانوں کے مسائل ہوں، خواتین کی سلامتی ہو، بے روزگار نوجوانوں کا مستقبل ہو، مزدوروں کے حقوق ہوں یا دیہی ترقی کا معاملہ، وہ ہر موقع پر عوام کے مفادات کا دفاع کرتے رہیں گے۔ان کے مطابق ایک عوامی نمائندے کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حکومت تک پہنچائے اور ان کے حل کے لیے مسلسل جدوجہد کرے۔
حکومت کی یقین دہانی
شاہ عالم (گڈو جمالی) کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے متعلقہ وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ گنے کی فصل کا مکمل معائنہ کرایا جائے گا اور جہاں کہیں بھی سروے میں بے ضابطگی ہوئی ہوگی، اس کی اصلاح کی جائے گی۔وزیر نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات دی جائیں گی تاکہ کسی بھی کسان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔یہ یقین دہانی کسانوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، تاہم عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔
نوجوانوں میں امید کی نئی کرن
اعظم گڑھ کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ شاہ عالم (گڈو جمالی) نے جس انداز میں قانون ساز کونسل میں ضلع کے مسائل اٹھائے ہیں، اس سے انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ ان کی آواز ایوان تک پہنچ رہی ہے۔نوجوانوں کے مطابق اگر ہر منتخب نمائندہ اسی طرح اپنے علاقے کے مسائل پر توجہ دے تو نہ صرف ضلع بلکہ پورا صوبہ ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔
عوامی خدمت کا مسلسل سفر
شاہ عالم (گڈو جمالی) صرف قانون ساز کونسل میں آواز اٹھانے تک محدود نہیں بلکہ وہ عملی طور پر بھی سماجی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ضلع بھر میں غریب، مزدور، بیواؤں، مریضوں اور ضرورت مند خاندانوں کی مالی مدد کے متعدد واقعات عوام کے سامنے موجود ہیں۔قدرتی آفات، بیماری یا دیگر مشکلات کے وقت بھی وہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ضرورت مند افراد کو بروقت تعاون فراہم کیا جائے۔
تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار
شاہ عالم (گڈو جمالی) تعلیم کو معاشرے کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت وہ ہر سال ضلع کے تقریباً پچاس ہونہار طلبہ کی تعلیمی معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ میڈیکل کے قومی سطح کے امتحان NEET کی تیاری کر سکیں۔ان کا ماننا ہے کہ اگر باصلاحیت مگر مالی طور پر کمزور طلبہ کو مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اعظم گڑھ بلکہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوششیں نوجوان نسل کے مستقبل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
عوامی ردِ عمل
اعظم گڑھ کے مختلف علاقوں میں عوامی حلقوں نے قانون ساز کونسل میں شاہ عالم (گڈو جمالی) کی سرگرمیوں کو مثبت انداز میں دیکھا ہے۔ کسان تنظیموں، نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایوان میں ان مسائل کو اٹھایا جو برسوں سے حل طلب تھے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان مطالبات پر سنجیدگی سے عمل کرے تو نہ صرف کسانوں کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ دیہی علاقوں کی ترقی، بہتر سڑکوں، مضبوط انفراسٹرکچر اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اعظم گڑھ کی ترقی کا وژن
شاہ عالم (گڈو جمالی) کا کہنا ہے کہ اعظم گڑھ میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ یہاں کے نوجوان تعلیم، کھیل، طب، انجینئرنگ، تجارت اور دیگر شعبوں میں ملک بھر میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بنیادی سہولیات، بہتر تعلیم، مضبوط سڑکیں، جدید زراعت اور شفاف انتظامیہ فراہم کی جائے۔ان کے مطابق اگر تمام عوامی نمائندے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صرف ضلع کی ترقی کے لیے کام کریں تو اعظم گڑھ نہ صرف اتر پردیش بلکہ پورے ملک کے ترقی یافتہ اضلاع میں شامل ہو سکتا ہے۔



