مسلم ووٹ تو چاہیے، مسلم قیادت نہیں؟
مسلم برادری کو متحد ہونے کی ضرورت، شاہ فیصل کی اپیل

لکھنؤ: اتر پردیش کی سیاست میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) اور اس کے سربراہ اسد الدین اویسی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اسی تناظر میں سیاسی تجزیہ کار شاہ فیصل عرف اچھو نے سماجوادی پارٹی (سپا) اور بہوجن سماج پارٹی (بسپا) کی سیاسی حکمت عملی پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ سپا اور بسپا مسلم ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا تو چاہتی ہیں، لیکن مسلم قیادت والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے گریز کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ان جماعتوں کو خدشہ رہتا ہے کہ کہیں ان کا روایتی مسلم ووٹ بینک کسی دوسری سیاسی جماعت کی جانب منتقل نہ ہو جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزادی کے بعد سے مختلف سیاسی جماعتوں نے مسلم برادری کے ووٹ تو حاصل کیے، لیکن ان کے مسائل اور حقوق کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اتر پردیش کا ایک طبقہ متبادل سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہا ہے۔
شاہ فیصل نے کہا کہ ریاست کا مسلم سماج پہلے کے مقابلے میں زیادہ بیدار اور سیاسی طور پر متحرک ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اسد الدین اویسی نے مسلم برادری کو سیاسی طور پر منظم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے اثرات ریاستی سیاست میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مسلم برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی سیاسی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے اور متحد ہو کر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے۔ شاہ فیصل کے مطابق اگر مسلم سماج منظم انداز میں اپنی آواز بلند کرے تو وہ ریاستی سیاست میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کا ذکر کرتے ہوئے شاہ فیصل نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے دوران پارٹی کی جانب سے مؤثر عوامی تحریک دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے اسے مسلم قیادت کے تئیں بعض سیاسی جماعتوں کے رویے کی ایک مثال قرار دیا۔
واضح رہے کہ شاہ فیصل عرف اچھو کے یہ خیالات ان کی ذاتی سیاسی رائے اور تجزیے پر مبنی ہیں۔ اس موضوع پر مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں



