انصاف اور انسانیت کے علمبردار مرحوم حذیفہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں

غریبوں کے حقوق کے لیے زندگی وقف کرنے والے مرحوم حذیفہ آج بھی یاد کیے جاتے ہیں

 

اعظم گڑھ: مرزا پور ترقیاتی بلاک کے گاؤں سورہی سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن مرحوم حذیفہ آج بھی ضلع بھر کے عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انہیں ایک نڈر، دیانت دار، مخلص اور عوام دوست شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں، بے سہارا افراد، مظلوموں اور محروم طبقات کی خدمت، فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کر دی تھی۔

 

مرحوم حذیفہ کی خدمات صرف اپنے گاؤں یا آس پاس کے علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ سرائے میر سمیت پورے اعظم گڑھ میں ان کی الگ شناخت اور غیر معمولی مقبولیت قائم تھی۔ جہاں کہیں بھی کسی غریب، مظلوم یا بے بس شخص کے ساتھ ناانصافی یا ظلم کی اطلاع ملتی، وہ بلا تاخیر وہاں پہنچ کر اس کی ہر ممکن مدد کرتے۔ حق گوئی، انصاف پسندی، انسان دوستی اور بے لوث خدمت ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، جنہوں نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

 

سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ مرحوم حذیفہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے اور سوشلسٹ نظریات سے وابستہ تھے۔ عوام کے ساتھ ان کا مضبوط تعلق، صاف گوئی اور خدمت کا بے لوث جذبہ روز بروز ان کی مقبولیت میں اضافہ کرتا رہا۔ مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے ذات، مذہب، برادری اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر ضرورت مند کا ساتھ دیا، اسی لیے انہیں معاشرے میں بے حد عزت، اعتماد اور احترام حاصل تھا۔

 

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ مرحوم حذیفہ نے بے شمار غریب اور مستحق خاندانوں کی مالی، سماجی اور اخلاقی مدد کی۔ وہ ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور استحصال کے خلاف ڈٹ کر آواز بلند کرتے تھے۔ ان کے دروازے سے کوئی سائل کبھی مایوس واپس نہیں لوٹا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں ایک باکردار، دیانت دار، بے خوف اور عوام کے حقیقی خیرخواہ سماجی رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

 

مقامی افراد کے مطابق جب ان کا سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا تھا اور عوام میں ان کی مقبولیت نئی بلندیوں کو چھو رہی تھی، اسی دوران سرائے میر میں دن دہاڑے انہیں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اس اندوہناک واقعے نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کو غم و صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اس وقت ان کے بچے بھی کم عمر تھے اور اہلِ خانہ پر یہ سانحہ ایک ناقابلِ فراموش آزمائش بن کر ٹوٹا۔

 

اگرچہ اس دلخراش واقعے کو برسوں بیت چکے ہیں، لیکن مرحوم حذیفہ کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح تازہ ہے۔ علاقے کے بزرگ، سماجی شخصیات اور عوام کا کہنا ہے کہ خدمتِ خلق، انسان دوستی، حق گوئی اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مرحوم حذیفہ کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ بے لوث خدمت، اعلیٰ کردار اور انسانیت سے محبت ہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔

 

مرحوم حذیفہ اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی خدمات، ان کا کردار اور ان کی انسان دوستی آج بھی ہزاروں دلوں میں زندہ ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایسے مخلص اور بے لوث افراد جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ضرور ہو جاتے ہیں، مگر اپنے کردار، خدمت اور نیک نامی کے باعث ہمیشہ لوگوں کی دعاؤں اور یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button